ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سرسی کو نیاضلع تشکیل دینے کے متعلق اسپیکر کاگیری کا بیان : بی جےپی تذبذب کا شکار

سرسی کو نیاضلع تشکیل دینے کے متعلق اسپیکر کاگیری کا بیان : بی جےپی تذبذب کا شکار

Thu, 08 Dec 2022 19:01:55    S.O. News Service

سرسی:8؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع کو تقسیم کرتےہوئے سرسی کو علاحدہ ضلع تشکیل دئیے جانے کےمتعلق ودھان سبھا اسپیکر وشویشور ہیگڈے کاگیر ی کے بیان کو لےکر ضلع بی جےپی میں موافق و مخالف آوازیں اٹھ ری ہیں۔ ساحلی پٹی کے دو ارکان اسمبلی نے سرسی ضلع کی تشکیل کو لےکر بالکل مختلف بیان دیاہے۔

ودھان سبھا انتخابات کے لئے صرف چند ماہ باقی رہ گئےہیں ، ایسے وقت بااثر لیڈروں میں سے ایک کاگیری  کے ذریعے  ضلع کی تقسیم کی باتیں سامنے آنے سے بی جےپی کو نہ نگلے بنے نہ اگلنے بنے کی صورت حال کا سامنا ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے ضلع کی تقسیم کی باتیں چل رہی تھیں لیکن وہ صرف گلی محلےکی حد تک محدود تھیں۔ پچھلے ایک دوبرسوں میں سرسی میں ہونے والے  احتجاج کے سوا کوئی بڑا احتجاج، زوردار مطالبہ سرکاری سطح پر نہیں ہواتھا۔

عوام کہہ رہے ہیں کہ ودھان سبھا انتخابات قریب ہیں اپنی 7ویں جیت کو یقینی بنانے کےلئے کاگیری نے ضلع کی تقسیم کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔ فی الحال وہ ودھان سبھا اسپیکرجو کسی پارٹی کی طرفدار ی نہ کرتےہوئے غیر جانبدارانہ عہدے پر فائز ہیں لیکن اگلے چند ماہ بعد انہیں سرسی ودھان سبھا حلقہ سے بی جےپی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنی جیت کو آسان بنانے کےلئے نئے ضلع کی تشکیل کا پتہ پھینکا ہے۔

اترکنڑا ضلع کی ساحلی پٹی پر واقع تینوں ودھان سبھاحلقوں میں بی جےپی کے ارکان اسمبلی ہیں،ضلع میں یہ بحث بھی جاری ہےکہ  کاگیری نے نئے ضلع کی تشکیل کابیان دینے سے پہلے ساحلی پٹی کے ارکان اسمبلی کے ساتھ بات چیت کی ہے یا نہیں  ۔ کیونکہ ضلع کی تقسیم کے متعلق ایک قد آور لیڈر بیان دیتاہے تو ظاہر ہے  بی جےپی کے ارکان اسمبلی تذبذب کا شکار ہونگے ۔ اگر  اسپیکر کے بیان کی  وہ مخالفت کرتے ہیں تو عوام کو جواب دینا مشکل ہوجائے گااور عوامی غصہ کو ٹھنڈا کرنا بھی ان کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ مجموعی طورپر اسپیکر کاگیری کا بیان ارکان اسمبلی کےلئے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

سیاست کیاکہتی ہے؟:ایک زمانے میں اترکنڑا ضلع کانگریس کا مضبوط قلعہ تھا اب پچھلے چند برسوں سے بی جے پی کی گود میں ہے۔ ہلیال کے سوا بقیہ پانچوں حلقوں میں بی جےپی کے ارکان اسمبلی ہیں۔ بی جےپی لیڈران کو خدشہ ہے کہ اگر ضلع کی تقسیم ہوتی ہے تو بی جے پی کےلئے نقصان ہوگا۔ نئےضلع کے لئے سرسی اور سداپور کے علاقوں میں زوردار مطالبہ دیکھا گیا ہے  لیکن گھاٹ کے اوپر والے دوسرے تعلقہ  جات میں اتنی آواز نہیں اٹھی ہے۔ اسی حساب کےچلتے چند لیڈران کا کہنا ہےکہ ضلع تقسیم ہوا تو بی جے پی کو نقصان ہوسکتاہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ابھی تک بی جےپی میں ہی ضلع کی تقسیم کو لےکر کوئی متفقہ رائےنہیں پائی جاتی ۔

گھاٹ کے اوپر والےتعلقہ جات میں پچھلے کئی برسوں سے سرسی کو ضلع بنانے کی آوازیں لگائی جارہی ہیں لیکن عین انتخابات کےموقع پر کاگیری کا ضلع کو تقسیم کرتےہوئےسرسی کو نیا ضلع بنائےجانےکے متعلق بیان دینے سے سیاسی فائدے و نقصان کی بات شروع ہوگئی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بی جےپی لیڈران اور کارکنان کے درمیان یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ انتخابات کے موقع پر ایسےمتنازعہ بیان کی کیا ضرورت تھی۔

سنیل نائک کابیان : اترکنڑاضلع کی تقسیم کو لے کر بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک کا کہنا ہے کہ ضلع کی تقسیم ضروری نہیں ہے ، ضلع کےلئے سب سے زیادہ ضروری ایک سوپر اسپیشالٹی اسپتال ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈران کو ضلع کی ترقی کے متعلق بیان دینا چاہئے۔

 مکمل ضلع کی پسند جتاتے ہوئے بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے بالواسطہ طورپر کاگیری کے بیان کی مخالفت کی ہے۔

ضلع تقسیم ہو: کاگیری کے بیان کو لےکرکمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر شٹی نے کہا ہے کہ ضلع تقسیم ہوتاہے تو ترقیاتی کام زیادہ ہوتےہیں۔ میں اس کی مخالفت نہیں کروں گا ۔ ضلع تقسیم ہوکر دو ضلع تشکیل پاتے ہیں تو سرکاری امداد بھی دگنی ہوگی اور سہولیات بھی زیادہ ملیں گی۔


Share: